117

2020 تک لکڑی سے بنی پہلی کار سڑک پر آجائے گی

(الحبرنیوز آن لائن)ماہرین درختوں کی لکڑی سے لیے گئے ریشوں کے ذریعے کار کا بیرونی ڈھانچہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
ٹوکیو : جاپانی انجینئرزنے لکڑی سے حاصل ہونے والے اجزا سے کار بنانے کا اعلان کیا ہے جو موجودہ گاڑیوں کے وزن کے بھی پانچویں حصے کے برابر ہو گی اور لوہے سے بھی پانچ گنا زیادہ مضبوط ہوگی۔
کیوٹو یونیورسٹی کے ماہرین اور کاروں کے پرزے بنانے والی بڑی کمپنیاں نینوفائبرز میں پلاسٹک شامل کرتے تھے لیکن لکڑی کے گودے کے ریشوں کو مزید مختصر کرتے ہوئے کئی سو مائیکرون تک باریک کرکے استعمال کیا جائے گا۔
ایک مائیکرون ایک ملی میٹر کا بھی ایک ہزارواں حصہ ہوتا ہے۔ لکڑی کے اتنے باریک ریشوں کو سیلولیوز نینوفائبرز سے جانا جاتا ہے جو کہ اب بھی سیاہی سے لے کر ٹرانسپیرنٹ ڈسپلے تک کی تیاری میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
کاروں کے لیے لکڑی استعمال کرنے کا طریقہ ’کیوٹو پروسیس‘ کہلاتا ہے جس میں لکڑی کے برادے کو کیمیائی عمل سے گزار کر اس میں پلاسٹک ملایا جاتا ہے اور اسے مزید باریک کر کے نینوفائبرز تیار کیے جاتے ہیں۔ کیوٹو پروسیس سے پرزوں کی تیاری کی لاگت گھٹ کر پانچویں حصے کے برابر ہو گئی ہے ورنہ یہ بہت مہنگا نسخہ تھا۔
کاروں کے لیے لکڑی استعمال کرنے کا طریقہ ’کیوٹو پروسیس‘ کہلاتا ہے جس میں لکڑی کے برادے کو کیمیائی عمل سے گزار کر اس میں پلاسٹک ملایا دیاجاتا ہے اور اسے اور زیادہ باریک کر کے نینوفائبرز تیار کیے جاتے ہیں۔ کیوٹو پروسیس سے پرزوں کی تیاری کی لاگت کم ہو کر پانچویں حصے کے برابر ہو گئی ہے ورنہ یہ بہت مہنگا پروسیجر تھا۔
کیوٹو یونیورسٹی کے پروفیسر ہیرو آکی ‘کا دعویٰ ہے کہ 2030 تک سیلولیوز نینوفائبر کی ایک کلو مقدار کی قیمت آدھی ہو جائے گی جو کہ اس وقت 1000 روپے فی کلو ہے۔ قیمت میں کمی سے گاڑیوں کی باڈی سیلولیوز نینوفائبرز سے بنانا بہت حد تک ممکن ہو سکے گا۔
اور اسکا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ کاریں نہایت ہلکی پھلکی ہوجائیں گی اور انہیں بیٹری سے چلانا ممکن ہو جائے گا۔ اس طرح خرچ بھی کم ہو جائے گا۔
ٹویوٹا اور مزدا کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی رائے ظاہر کی ہے کہ سیلولیوز نینو فائبرز سے ہلکی پھلکی اور مضبوط گاڑیوں کی تیاری ممکن ہو سکے گی۔ توقع ہے کہ اس سے کم وزن، کم قیمت، باکفایت اور مضبوط برقی کاروں کا نیا انقلاب آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں