chinese divorce law changes 18

چین میں طلاق دینے کے لیے میاں بیوی کو امتحان دینا لازم قرار جس میں پاس ہونا لازم

ملک چین کے صوبے سی شان میں بسنے والے ایک قبیلے یبین کی عدالت نے طلاق لینے کے لیے ایک خاص امتحان کو تیار کیا ہے جو کہ تحریری سوالات اور جوابات پر مبنی ہوگا۔

اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنا بیوی اور شوہر دونوں کے لیے ضروری ہو گا۔ کسی ایک کی بھی ناکامی کے صورت میں طلاق کا ہونا ناممکن ہوگا۔
اس امتحان میں گزارے ہوئے تمام لمحات ، ذمہ داریوں ، بچوں کی تربیت، پسند نا پسند اور گھر والوں کے متعلق سوالات پوچھے جائیں گے۔
یہ امتحان 3 حصوں پر مشتمل ہوگا جس میں پہلے حصے میں خالی جگہوں کو پر کرنا ہوگا، دوسرے حصہ میں مختصر سوالات کے جوابات ہوں گے اور تیسرے حصے میں کچھ مزید باتیں ہوں گی جو لکھنی ہوں گی۔
اگراس امتحان میں 60 فیصد سے زیادہ صحیح جواب دیئے تو طلاق کا فیصلہ مسترد کرنا پڑے گا اور شادی کو نبھانے کا ایک اور موقع دیا جائے گا اور اگر 60 فیصد سے کم ہوۓ تو کورٹ کی جانب سے طلاق کی تصدیق کردی جائے گی۔

اس امتحان کو یبین کے ایک جج نے متعارف کروایا ہے اور ان کے مطابق گزشتہ کئی عرصے سے طلاق کی شرح کافی حد تک بڑھ گئی ہے، ہر سال طلاق کے کئی کیسز سامنے آرہے ہیں تاہم اس پر قابو پانے اور شادی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ایسا امتحان بنایا جس میں کامیابی حاصل کرنا دونوں جانب سے لازم ہے ۔

جج کا کہنا ہے کہ اس امتحان کا بنیادی مقصد رشتہ ازدواج کو مضبوط کرنا اور اسے بر قرار رکھنے کے لیے ایک موقع فراہم کرنا ہے تاکہ دونوں فریقین ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔

امتحان کے بعد جج اس کو پڑھے گا پھر ہی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے کوئی نتائج سامنے آئیں گے۔

یہ امتحانی پرچے والی طلاق کا معاملہ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہورہا ہے جسے پزیرائی کے ساتھ کافی سراہا بھی جا رہا ہے جب کہ کچھ لوگوں نے تنقید بھی کی اور کہا کہ یہ میاں بیوی کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے اس میں کوئی قانونی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں