ختم نبوت اور میاں‌ برادران 50

حلف نامہ اور اقرار نامہ میں فرق………… ختم نبوت اور میاں‌ برادران

محمد نواز شریف صاحب نے اپنی پہلی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں اپنی پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں بھی کہا تھا، قادیانیوں سے متعلق اگر ترمیم آئین سے ختم کردی جائے تو ہمارے سارے قرضے معاف ہوجائیں گے۔ اس کے لیے امریکا تیار ہے، وہ تو جناب راجا ظفرالحق صاحب ڈٹ گئے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ جو آپ نے کہا اس کے ردِ عمل کا بھی آپ کو اندازہ ہے؟ تو اس پر نواز شریف صاحب طرح دے گئے کہ نہیں، وہ تو میں نے ویسے ہی کہا۔
جناب نواز شریف صاحب نے قادیانیوں کو اپنا بھائی کہا۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازلی ابدی مخالفین، ختم نبوت کے منکرین اور اہانت رسول کرنے والوں کو اپنا بھائی کہنے کا کام جناب میاںصاحب نے ہی انجام دیا۔

 میاں محمد نواز شریف نے قائد اعظم یونیورسٹی سے ملحق فزکس کے ادارہ کا نام ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھا، جس عبدالسلام قادیانی نے پاکستان کی سرزمین کو لعنتی کہا۔ ان قادیانیوں کے لیے میاں صاحب کا یہ نرم گوشہ اور علامہ اقبالؒ کا جواہر لال نہرو کو کہنا کہ قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔ قادیانیوں کے بارہ میں علامہ اقبال کا فرمان اور میاں محمد نواز شریف کے عمل میں واضح تضاد آخر کیوں؟
مبینہ طور پر نواز شریف صاحب نے حالیہ دورِ اقتدار میں اپنا پرسنل سیکریٹری قادیانی کو لگایا اور پھر جناب خاقان عباسی صاحب کے وزیر اعظم بننے پر اسے نواز شریف نے پابند کیا کہ اس پرسنل سیکریٹری کو تبدیل نہ کیا جائے۔ اب وہ عباسی صاحب کے ساتھ امریکا کے دورے پر گیا ہے اور یہ کہ اب اسے ورلڈ بینک میں بھیجنے کی تیاری ہورہی ہے۔
خوشاب میں پہلے ضلعی پولیس آفیسر (ڈی پی او) خدا بخش نتھوکہ قادیانی کو لگایا گیا۔ میاں شہباز شریف صاحب کے پاس ضلع کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کا وفد گیا کہ قادیانی کو تبدیل کیا جائے۔ چھوٹے میاں صاحب نے فرمایا کہ کیا تم نے اس کے پیچھے نمازیں پڑھنی ہیں؟ اس پر ممبران نے کہا کہ ایک ضلع قادیانی افسر کے رحم و کرم پر چھوڑنا بھی قرین انصاف نہیں۔ میاں صاحب چپ تو ہوگئے، لیکن تبادلے کے مطالبے کو تسلیم نہ کیا۔ خدا بخش نتھوکہ قادیانی کی فرعونیت کا اندازہ لگائیں کہ محکمہ انہار کے ایکسین کو اپنے ہاتھ سے پیٹا۔ صوبہ بھر میں محکمہ انہار کے ملازمین نے احتجاج کیا، خدا بخش نتھوکہ معطل ہوا، قبلہ شہباز شریف صاحب نے اسے بحال کیا، ترقی دی اور ڈی آئی جی بنادیا اور پھر خدا بخش نتھوکہ کی جگہ وقارالحسن نتھوکہ قادیانی کو خوشاب کا ڈی پی او لگادیا گیا، جو قادیانی بھی ہے، خدا بخش نتھوکہ کا بھتیجا اور داماد بھی ہے۔ سالہاسال سے خوشاب ضلع کا ضلعی پولیس آفیسر یکے بعد دیگرے قادیانی چلا آرہا ہے۔ خوشاب میں اٹامک انرجی کا اہم شعبہ کام کررہا ہے اور قرب و جوار میں قادیانی آبادیاں ہیں اور پاکستان کے ایٹم کا ماڈل اور ایٹمی راز عبدالسلام قادیانی نے امریکا کو مہیا کیے تھے۔ ان تمام تر باتوں کے باوجود میاں صاحبان کا خدا بخش نتھوکہ کی ناز برداری کرنا محض اس لیے کہ خدا بخش نتھوکہ میاں شہباز صاحب کا کلاس فیلو ہے۔

سانحہ دوالمیال میں قادیانیوں کی سپورٹ اور مسلمانوں کو تختہ مشق بنانے کے لیے جو کچھ سرکاری سطح پر ہوا یا ہورہا ہے، لگتا ہے کہ حکومت نے قسم کھالی ہے کہ مسلمانوں کو قادیانیوں کے سامنے سرنگوں کرنا ہے۔

عید سے قبل جناب شہباز شریف صاحب سے وفاق المدارس کا وفد مولانا محمد حنیف جالندھری کی سربراہی میں اور جمعیت علماءاسلام کا وفد مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں ملا۔ پنجاب حکومت کے سربراہ نے وعدے کیے لیکن ایک بھی وعدہ کا ایفا نہ کیا، نہ ایک عالم دین کو فورتھ شیڈول سے نکالا گیا۔ نہ کسی ایک مدرسے کو کھالوں کے سلسلے میں سہولت دی گئی۔ لگتا یہ ہے کہ حکومت نے تہیہ کررکھا ہے کہ جھوٹے وعدے کیے جاﺅ، ہاں میں ہاں ملائے جاﺅ، لیکن ان کا مطالبہ ایک بھی تسلیم نہ کرو۔

اب حال ہی میں قومی اسمبلی سے انتخابی اصطلاحات کا جو بل منظور کرایا گیا ہے، اس میں اسمبلی الیکشن کے لیے امیدواران کو حلف نامہ جمع کرانا پڑتا تھا کہ ”میں حلفیہ کہتا ہوں….“ اب اس عبارت کو یوں بدل دیا گیا ہے کہ ”میں اقرار کرتا ہوں….“ آخر ختم نبوت کے حلف نامے کو اقرار نامے میں تبدیل کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ میرے خیال میں میاں صاحبان اتنے سادہ نہیں ہیں کہ وہ حلف نامہ اور اقرار نامہ کے فرق کو نہ سمجھتے ہوں۔ یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے ایک گہری سوچ اور خطرناک چال کا حصہ ہے۔ قادیانیوں کو رعایت دینے کے لیے اور ختم نبوت سے متعلق ترمیم کو غیر مو ¿ثر بنانے کے لیے جو کچھ ہوسکتا ہے، حکومت موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی، یہ بلاوجہ نہیں، اس کے پیچھے چھپے ہوئے ہاتھوں کو غیر موثر بنانا ضروری ہے۔ لگتا ہے میاں محمد نواز شریف نے ان تمام حالات سے کوئی سبق نہیں سیکھا، قادیانیت نوازی کی نحوست نے ان کو نشان عبرت بنائے بغیر نہیں چھوڑنا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب سے ہم پناہ چاہتے ۔
عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس ہے اس کی حفاظت اور پاسداری ہر کلمہ گو پر فرض ہےاللہ ھم سب کو دین کی سمجھ عطا فرماۓ اور فتنہ پروروں سے ھماری اور دین اسلام کی حفاظت فرماۓ۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں