دماغی راحت 30

دماغی تھکن اور بھولنے کی بیماری کو ختم کرنے کا آسان نسخہ

اگر دماغ جلد تھک جاتا ہےتو اسکو تروتازہ رکھنےکے لئے ایک طریقہ ہے جو صدیوں پرانا ہے پرانے اطبا جب کسی مریض کو افسردہ دیکھا کرتے تھے تو اسکو ہنسنے اور قہقے لگانے کی تجویز دیتےتھے اور اسکے گھر والوں کو کہا کرتے تھے کہ اسکو خوش رکھنے کی کوشش کیا کریں۔
افسردہ رہنے والوں کے دماغی سیلزبری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں جو ہنسنے اور قہقہ لگانے سے آہستہ آہستہ بہتر ہوجاتے ہیں جس سے دماغی راحت ملتی ہے اور یادداشت کی کمزوری ختم ہونے لگتی ہے ۔ اور قہقہہ لگانے سے دماغ میں جب ڈوپامائن کا مادہ داخل ہوتا ہے تو اس سے اینڈورفاینز کی  مقدار بڑھ جاتی ہے جو دماغ کو خوشی مہیا کرتا ہے۔جبکہ اس سے دماغ کے امیون سسٹم کی کارکردگی نہایت اچھی ہوجاتی ہے۔اور انسان کو دماغی راحت نصیب ہوتی ہے۔
کیلی فورنیا کی لوما لنڈا یونیورسٹی میں ذہنی تھکن کے مریضوں پر تجربہ کیا گیا اور انہیں بیس منٹ تک مزاحیہ وڈیوز دکھائی گئیں اسکے بعد انکے معائنہ سے یہ بات سامنے آ ئ کہ ہنسنے سے ان کی دماغ پراچھا اثر پڑا ہے۔ ہنسنے سے انکے برین سیلز نے یادداشت بہتر بنانے والے ہارمونز پر خوشگوار اثرات

چھوڑے ہیں۔
سائنسی طبی تحقیقات کے مطابق جو انسان نقصان اور پریشانی میں بھی ہنسنا سیکھ لیتا ہے اسکی کھوئی ہوئی اور کمزور ہوتی ہوئی یادداشت بہتر ہونے لگتی ہے اور اسکو دماغی راحت ملتی ہے۔ موجودہ دور میں ہنسنے یا قہقہے نہ لگانے والے دماغی تھکن اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں ۔اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ جو بھی ہو انسان کو ہر حال brainمین ہنستے رہنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں