blue whale's founder 21

بلیو وہیل گیم کا خالق منظرعام پر گیم بنانے کی وجہ بھی بتا دی

خطرناک انٹرنیٹ گیم “بلیو وہیل “نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا یاہوا ہے ،بلیو وہیل ایک خونی کھیل ہے جو انٹرنیٹ پر کھیلا جا رہا ہے کمپیوٹر اور سمارٹ فون سے کھیلے جانے والے اس کھیل کا اختتام خود کشی پر ہوتا ہے ، بلیو گیم بنانے والا ایک روسی نوجوان نفسیات کا طالب علم تھا۔اپنی خطرناک سرگرمیوں کی وجہ سے سن2013 میں اسے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔جب اس گیم کی وجہ سے روس میں خود کشی کے واقعات بڑھنے لگے تو اسے گرفتار کر لیا گیا

گیم بنانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس لڑکے کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کو ایسے لوگوں سے پاک کرنا چاہتا ہے جن کی سوسائٹی میں کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ دنیا نیوز کے پروگرام میں کامران خان نے بتایاکہ بلیو وہیل گیم نے دنیا بھر میں وحشت پھیلائی ہے،یہ ایک خطرناک گیم ہے جس میں بچوں کو خود کشی کی جانب راغب کیا جاتا ہے۔اس میں پلیئرز کو وقتاً فوقتاً ٹاسک دیا جاتا ہے جسے وہ پورا کرتے جاتے ہیں اور گیم آگے بڑھتی ہے ،ابتدا میں بچوں کو آدھی رات میں ڈراﺅنی فلمیں دیکھنے اور ہاتھوں پر بلیڈز سے زخم لگانے کا ٹاسک دیا جاتا ہے اور پچاس روز کی اس گیم کا آخری مرحلہ خودکشی کا ٹاسک ہوتا ہے۔حالیہ برسوں میں بچوں کی خودکشی کے کئی واقعات کو اس گیم سے جوڑا گیا ہے

اطلاعات کے مطابق روس میں 130کے قریب بچوں کی خود کشی کا تعلق اسی گیم سے ہے روس میں 2013سے خود کش گروپ پر پابندی ہے لیکن وہ زیر    زمین چلے گئے ہیں، روسی حکام کے مطابق خود کشی کی جانب راغب کرنے والے سوشل میڈیا گروپس کا مسئلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ ایک نیا قانون لانے پر غور کیا جا رہا ہے ،جس کے مطابق اس میں ملوث افراد کو 4سال جیل کی سزا ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں