rule of 99 24

ننانوے کا قانون

بادشاہ وقت نے اپنے وزیر خاص سے پوچھا: یہ میرے نوکر مجھ سے زیادہ کیسے خوش باش پھرتے ہیں۔ جبکہ ان کے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس کمی کسی چیز کی نہیں۔

وزیر نے کہا: بادشاہ سلامت، اپنے کسی خادم پر قانون نمبر ننانوے کا استعمال کر کے دیکھا ہے

بادشاہ نے پوچھا: اچھا، یہ قانون نمبر ننانوے کیا ہوتا ہے؟

وزیر نے کہا: بادشاہ سلامت، ایک صراحی میں ننانوے درہم ڈال کر، صراحی پر لکھیئے اس میں تمہارے لیئے سو درہم ہدیہ ہے، رات کو کسی خادم کے گھر کے دروازے کے سامنے رکھ کر دروازہ کھٹکھٹا کر ادھر اُدھر چھپ جائیے اور تماشہ دیکھ لیجیئے۔

بادشاہ نے، جیسے وزیر نے سمجھایا تھا، ویسے کیا، صراحی رکھنے والے نے دروازہ کھٹکھٹایا اور چھپ کر تماشہ دیکھنا شروع کر دیا۔

اندر سے خادم نکلا، صراحی اٹھائی اور گھر چلا گیا۔ دراہم گنے تو ننانوے نکلے، جبکہ صراحی پر لکھا سو درہم تھا۔ سوچا: یقینا ایک درہم کہیں باہر گرا پڑا ہوگا۔

خادم اور اس کے سارے گھر والے باہر نکلے اور درہم کی تلاش شروع کر دی۔ ان کی ساری رات اسی تلاش میں گزر گئی۔ خادم کا غصہ دیدنی تھا، کچھ رات صبر اور باقی کی رات بک بک اور جھک جھک میں گزری۔ خادم نے اپنے بیوی بچوں کو سست بھی کہا کیونکہ وہ درہم تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے۔

دوسر دن یہ ملازم محل میں کام کرنے کیلئے گیا تو اس کا مزاج مکدر، آنکھوں سے جگراتے، کام سے جھنجھلاہٹ، شکل پر افسردگی عیاں تھی۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ ننانوے کا قانون کیا ہوا کرتا ہے۔

لوگ ان ننانوے نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو الله تبارک و تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہوتی ہیں۔ اور ساری زندگی اس ایک نعمت کے حصول میں سر گرداں رہ کر گزار دیتے ہیں جو انہیں نہیں ملی ہوتی۔
لوگ اپنی اسی ایک مفقود نعمت کیلئے سرگرداں رہ کر اپنے پاس موجود ننانوے نعمتوں کی لذتوں سے محروم مزاجوں کو مکدر کر کے جیتے ہیں۔

اور یہ والی رہ گئی نعمت بھی الله کی کسی حکمت کی وجہ سے رُکی ہوئی ہوتی ہے جسے عطا کر دینا الله کیلئے بڑا کام نہیں ہوا کرتا لیکن اللہ وہ نعمت اپنی کسی حکمت کے پیش نظر بندے سے روک لیتا ہے اور اسکے بدلے آنے والی اس مصیبت کو نہیں بھیجتا جو بندے کے مقدر میں لکھی ہوئ ہوتی ہے لیکن بندہ اپنی کم عقلی کی وجہ سے یہ بات سمجھ نہیں پاتا اور اللہ کے ساتھ گلے شکوے اور نا شکری پہ اتر آتا ہے ۔ اگر بندہ یہ بات سمجھ لے کہ اللہ کی طرف سے جو ہوتا اس میں کہیں نا کہیں ہمارے لئے بھلائ ضرور ہے جو ہمیں فی الوقت نظر نہیں آ رھی ھوتی تو یہ سوچ بنا لینے سے بندے کی بہت سی پریشانیاں ختم ہو سکتی ہیں ۔
اپنی ننانوے مل چکی نعمتوں پر الله تبارک و تعالٰی کا احسان مانیئے اور ان سے مستفید ہو کر شکرگزار بندے بن کر رہیئے۔ الله پاک ہمیں اپنے شکر گزار بندے بنا دے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں