10

ٹیپو سلطان ہندو دشمن تھا’یا آزادی کا ہیرو؟

(الحبر نیوز آن لائن )دہلی: بھارت کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کا کہنا ہے کہ ٹیپو سلطان ایک ہیرو تھے جس نے انگریز فوج کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان ہی دیدی تھی۔

اب سپریم کمانڈر نے جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔ ان کی بات کو چیلنج کرنے کا خطرہ کون لے سکتا؟۔ رام ناتھ کووند صدر جمہوریہ بھی ہیں اور صدر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ان کا تعلق بی جے پی سے تھا۔ (دستور ہند کے تحت صدر جمہوریہ مسلح افواج کا سپریم کمانڈر بھی ہوتا ہے)۔

صدر کے بہت سے انتہائی پرانے ساتھیوں کا خیال ہے کہ 18ویں صدی میں میسور پر حکمرانی کرنے والا ٹیپو سلطان ایک ہندو دشمن حکمراں تھا، اور اس لیے اس کی ہر یاد کو وہ بھلا دینا چاہتے ہیں۔گذشتہ ہفتے ہی بی جے پی کے وفاقی وزیر اننت کمار ہیگڑے نے ٹیپو سلطان کی سالگرہ کے کسی بھی جشن میں شریک ہونے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں ٹیپو ’’ایک قاتل اور اجتماعی ریپسٹ‘‘ تھا۔ٹیپو سلطان پر یہ بحث تو پرانی ہے لیکن صدر کے بیان سے اس میں دوبارہ شدت پیدا ہوگئی ہے۔

صدر کووند نے یہ بھی کہا کہ میسور راکٹ بنانے اور استعمال کرنے میں ٹیپو سلطان نے کلیدی کردار ادا کیا تھا اور یہ ٹیکنالوجی بعد میں یورپی ممالک نے استعمال کی تھی!۔ تو ٹیپو سلطان کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ یہ بات تو طے ہے کہ وہ میسور کا راجہ تھا، میسور کرناٹک میں ہے جہاں آج کل کانگریس کی حکومت ہے اور وہ ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش کے موقع پر تقریبات منعقد کرتی ہے۔

یہ بھی طے شدہ ہے کہ ٹیپو سلطان کی نہ کانگریس سے دوستی تھی نہ بی جے پی سے دشمنی۔ نہ اس نے کبھی کوئی الیکشن لڑا نہ کانگریس کی کسی حکومت میں وزارت مانگی۔ لگتا ہے کہ ٹیپو کو جنگوں کا شوق تھا اور اس نے انگریز فوج کا مقابلہ کیا، کبھی جیتا کبھی ہارا۔

باقی تقریباً ہر بات پر اختلاف ہے۔ ٹیپوسلطان کے انتقال کو اب200 سال گزر چکے ہیں اور آج کل جنگیں ٹوئٹر پر لڑی جاتی ہیں جہاں پھر تلواریں کھنچی ہوئی ہیں۔سومی بوس نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ٹیپو سلطان انڈیا سے پوچھ رہا ہے کہ ’’ میرے بارے میں جو فیصلہ کرنا ہے بس اب کر ڈالو!‘۔

ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اننت کمار ہیگڑے کے نظریے کو درست ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، دوسری طرف وہ جن کے لیے ٹیپو سلطان ایک انصاف پسند رہنما تھا ۔ان میں عام آدمی پارٹی کے رہنما آشوتوش بھی شامل ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ تاریخ: سرینگیری مٹھ (ہندوؤں کا مذہبی مرکز) کے شنکرآچاریہ نے حملہ آوروں سے حفاظت کے لیے ٹیپو سے مدد کی درخواست کی تھی‘‘۔

ذرا بتائیے کہ حملہ آوروں کا مذہب کیا تھا؟،ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ٹیپو کو قوم پرست کہنے پر کیا بی جے پی صدر حمہوریہ کو قوم مخالف قرار دے کر پاکستان چلے جانے کے لیے کہے گی!۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں